اتوار، 15 جولائی، 2018

ہم صارفین


آگاہی پر شائع ہو چکا ہے


 کہتے ہیں کہ خریداری خواتین کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ مگر دیکھا جائے تو مرد حضرات بھی خریداری میں کسی طرح کم نہیں
ہوتے ۔اور اس خریداری میں اشیاء ضروریہ کے علاوہ کچھ لوگوں کی خدمات بینک سروسز بھی شامل ہوتی ہیں ۔ جو ہماری زندگیوں کو آسان بنانے کے لیے ناگزیر ہوتی ہیں ۔

دیوانگی

 (دانش پر پہلے شائع ہو چکی ہے)
کہانی کا پہلا حصہ
کہانی کا دوسرا حصہ
تیسرا اور آخری حصہ
جس روز کیس کی فائل وکیل صاحب کے دفتر آئی اسی روز انہوں نے رشید کو بلوا کر ساری ضروری معلومات لے لیں۔ اور اگلے روز وہ جا کر رشید کے ہمراہ وارث سے ملاقات بھی کر آئے۔ اور اس تک یہ خبر بھی پہنچا آئے کہ چند روز میں خوش نصیب کی شادی ندیم کے ساتھ ہونے جا رہی ہے۔ جو کچھ بھی خوش نصیب کے ساتھ ہوا، اس

دیوانگی

 (دانش پر شائع ہو چکی ہے)

کہانی کے پہلے حصے کا لنک

دوسرا حصہ
چند روز بعد ندیم آ کر اپنا کھاتہ کلئیر کروا گیا۔ ۔ اب وہ اکژاس کی دوکان پر آنے لگا تھا۔ دونوں میں کافی بے تکلفی ہو چکی تھی۔ اس دوران کئی بار اس کی نور محمد سے بھی ملاقات ہوئی۔ نور محمد کو وہ بڑا سلجھا ہوا اچھا لڑکا لگا۔ کپاس کا سیزن ختم ہو چکا تھا۔ گندم کی بوائی ہوئے بھی کافی دن ہو چکے تھے۔ مگر ندیم اب بھی آتا جاتا تھا۔ وارث کے پوچھنے پر اس نے کہا کہ یہاں ایک دوست سے ملنے آتا ہوں۔ اسی بہانے تمہاری طرف بھی چکر لگا لیتا ہوں۔ اس طرح وقت گزرتا گیا۔ وارث کے لیے بھی اس کا آنا اب معمول کی بات بن گئی تھی۔ وہ آتا تودیر شام تک اس کے پاس بیٹھتا اور پھر اچانک اٹھ کر چلا جاتا۔

دیوانگی

( پہلے دانش پر شائع ہو چکی ہے)

کرم دین کھیت میں گوڈی کر کے فارغ ہوا تھا۔ اور اب نہر جو اس کے کھیتوں کے پاس سے گزرتی تھی۔ اس کے بہتے پانی سے منہ ہاتھ دھو کر خود کو تازہ دم کر رہا تھا۔ تاکہ اس کے بعد وہ دودھ بیچنے شہر جا سکے۔ اچانک اس کی نظر پانی میں بہتی گٹھڑی پر پڑی۔ کرم دین پہلے تو سمجھا کہ کوئی کپڑا وغیرہ ہے۔ جو پانی کے ساتھ بہتا چلا آرہا ہے۔ لیکن جب وہ قریب پہنچا تو اسے معلوم ہوا کہ وہ گٹھڑی نہیں بلکہ انسانی جسم ہے۔ جیسے ہی اس کو یہ پتہ لگا تو اس نے بے ساختہ باآواز بلند چلایا ــــــ’’ہائے او ربا‘‘۔

پیر، 9 جولائی، 2018

خاکہ


 (پہلے سے دانش پر شائع ہو چکی ہے )

کیسی جا رہی ہے تمہاری جاب؟‘‘دوسری جانب سے پوچھا گیا۔۔
مہر نے لمبا سانس لے کر فون دوسرے ہاتھ میں منتقل کیا اور بولی۔۔
’’پولیس کی نوکری بہت ہی اعصاب شکن ہوتی ہے خاص کر فرانزک لیب میں۔ اور کام خاکہ نویسی ہو۔بے شمار لوگوں سے ملنا ہوتا ہے اور ان کے بتائے ہوئے نقش و نگار کے مطابق خاکہ بنانا پڑتا ہے‘‘۔۔
’’مطلب تم کارٹونز بھی بناتی ہو۔۔‘‘ دوسری جانب سے کھنکھتی ہوئی شرارتی آواز ابھری۔۔
’’

منگل، 27 جنوری، 2015

باپ پر پوت

"فرخ کہاں تھے تم دو دن سے میں نے تمھہیں سمجھایا تھا نا کہ ایسے مت بنا بتاۓ گھر سےغائب رہا کرو سب پریشان ہوتے ہیں حالات تو دیکھو آج کل کس طرح کے ہیں"۔۔۔ دروازہ کھولتے ہی وجیہہ پریشانی سے بولی۔۔
"تو بڑی بہن بن کر رہ میری ماں نہ بن" ۔۔۔ فرخ غصے سے بولا اور دروازہ زور سے دے مارا"میرا کام سمجھانا ہے نہیں تو پھر ابو کہیں گے کہ بڑی ہو کر چھوٹے کو سمجھا نہیں سکتی"۔۔ وجیہہ النگنی سے کپڑے اتارتے بولی
"

پیر، 19 جنوری، 2015

ہیلپ لائین

اے بھائی جی بریانی کیسے پکتی ہے؟؟؟
ذرا مجھے بازار کےسبزی کے ٹھیک ریٹ تو بتائیں؟؟؟
چور آئیں گے آج شائد آپکا کیا اراداہ ہے؟؟؟
کیا آپ شادی شدہ ہیں؟؟؟
جی تو یہ چند وہ سوالات ہیں جو عموماَ ہیلپ لائین یا ہاٹ لائین والوں سے کئے جاتے ہیں۔ لیکن اسمیں غلط بھی کچھ نہی ہے اب ہیلپ کا مطلب مدد کرنا ہے تو وہ تو کسی کو کہیں بھی کسی بھی وقت چاہیے ہوتی ہے جیسے ایک بی بی جو گھر پر اکیلی تھیں اور وہ یہ نہی جانتی تھی کہ لیپ ٹاپ کیسے آن کیا جاۓ انہوں نے ایسی ہی ایک ہیلپ لائین پر کال کی اور استفسار فرمایا کہ ونڈونہیں کھل رہی(یہ نہیں بتایا کہ کونسی ونڈو)۔ آگے سے جن صاحب نے کال اٹینڈ کی انہوں نے پہلے ہی ایسی