مناۓ جانے والے تہواروں کی
یاد یا پھر مذہبی سر گرمیوں کی جو تقدیس اور احترام میں لپٹے ہوۓ ہوتے تھے۔چند روز پہلے کی بات ہے عید میلادالنبی ﷺ مذہبی عقیدت اور احترام سےمنایا گیا۔ اس میں تو کوئی شک نہیں ہے اور یہبات تمام دوسری اقوام بھی مانتی ہیں کہ جتنی محبت ہم اپنے نبی پاک ﷺ سے
کرتے ہیں اتنی کسی اور سےنہی کرتےجب ہم
چھوٹے تھے تو امی 1 ربیع الاول کو دیے لایا کرتی تھیں اور پانی میں بھگو دیتی تھیں ۔ 2 دن بعد انکو نکال کر سنبھال لیا جاتا تھا اور 12 ربیع الاول کی رات کو فی بچہ 3 دیے حوالے کر دیے جاتے تھے ۔اب انکو جلانا اور جلاۓ رکھنا ہماری ذمہ داری ہوا کرتی تھی۔ پھپھو ہمیں روئی کی بیتیاں بنا کر دیا
کرتی تھیں اور دیئوں میں مناسب سا تیل ڈالکر انکو جلانا دادی کی ذمہ داری تھی۔ اور وہ جلتے دیے ہم اپنی منڈیر پر رکھتے اور محلے والوں کے گنتے کہ کہیں ہم سے زیادہ تو نہی ہیں۔ پاس کے بازار کے دکاندار چندا کٹھا کر کے رنگ برنگی جھنڈیوں سے بازار سجاتے اور جشن آمد رسول ﷺ کے بینرز آویزاں کرتے۔ پورا مہینہ محلے کے ہر گھرانے میں ذکر کی محافل اور میلاد ہوتا اور ہر کوئی حسب استطاعت نذر نیاز کی دیگ بانٹتا۔ اور 12 ربیع الاول کے روز خاص طور سے محلے کی مشترکہ محفل میلاد منعقد ہوتی جس میں ہم سب اپنے دادا جی کے ساتھ شرکت کرتے ۔ اسمیں مردو خواتین کے لیے الگ الگ انتظام کیا جاتا تھا۔ کچھ وقت بدلا تو دیئوں کی جگہ موم بتی نے لے لی ۔۔
ہم بڑے ہو گۓ۔بڑے بوڑھے ہو گۓ اور ہمیں سکھانے والے قبروں
میں جا سوۓ۔ اور ہم جس حد تک ہو سکا انکے طریقہ پر عمل کرنے کی کوشش کرتے رہے۔
کچھ عرصہ پہلے موم بتیوں کی جگہ برقی قمقوں اور لائیٹ نے لے
لی۔ اور محفل نعت کی جگہ بڑے بڑے سپیکروں پر بجتے نعتیہ کلام نے لے لی۔
مگر اب کے سال جو دیکھا وہ میری نظر میں انتہائی غلط قسم کا
جشن تھا۔ جا بجا بھنگڑے ، بے تحاشا لائیٹنگ، بچے جن کو نبی کریم ﷺ کی عادات و اطوار کے درس دیۓ جانے چاہیے تھے عجیب قسم کی اشکال فرش پر مختلف
رنگوں سے بنانے میں مصروف تھے، کو ئی پہاڑی بنا رہا ہے اور کوئی انڈین ڈراموں سے
متاثر ہو کر رنگولی، جا بجا اڑتے مہکتے آنچل، بے پردہ فیشن ایبل
خواتین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اف الفاظ نہیں مذمت کے میرے پاس۔ ہر کوئی خاموش ہے کہ کہیں
فتوی نہ لگ جاۓ۔ کہیں اسے کسی اور فرقے کا نا قرار دے دیا جاۓ۔
میں کسی فرقے سے نہیں ہوں نہ ہی کسی مدرسے سے۔ بس ایک
اچھا مسلمان بننے کی کوشش جاری ہے۔ اور پڑھنے والوں سے میری التجا ہے کہ وہ مجھے
غلط نہ سمجھیں کیونکہ یہ ہمارا قومی کام ہے کہ ہم سنتے اور سمجھتے بعد میں ہیں اور
الزام پہلے لگا دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا نبی کریم ﷺ کے یوم ولادت پر جشن منانے کا
یہ انداز بہتر نہ ہو گا کہ ہم ان پر درود و سلام بھجیں کہ جن کے طفیل سے یہ دنیا
بنی ہے۔(ترجمہ:بے
شک اللہ اور اس کے فرشتے نبیﷺ پر درود بھیجتے ہیں اے ایمان والو! تم بھی ان پر
درود و سلام بھیجو جس طرح بھیجنے کا حق ہے۔ سورہ الاحزاب 56
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ
عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ کریم روٴف ورحیمﷺ نے فرمایا۔ ترجمہ: جومجھ پر ایک بار درود
شریف پڑھے گا اللہ تعالی اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا اوراس کے دس گناہ معاف کئے
جائیں گے اور اس کے درجات بلند کئے جائیں گے (نسائی حدیث نمبر1296)۔
بس میری یہی دعا اور التجا ہے کہ براہء مہربانی گلیاں اور گھر سجائیں مگر ساتھ ساتھ محافل نعت، درو و سلام ،اورسیرات النبی ﷺ کا بھی اہتمام کریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ا

کسی بھی قرقہ وارانہ تبصرہ سے گریز کریں

کسی بھی قرقہ وارانہ تبصرہ سے گریز کریں
یہ چند تصاویر جو میں دور سے لے پائی کیونکہ اس طوفان میں گھسنے کامیرا یارا نہ تھا۔ لیکن واضح بھیڑ دیکھی جا سکتی ہے۔
تیرے حسنِ خلق کی اک رمق میری زندگی میں نہ مل سکی
جواب دیںحذف کریںمیں اسی میں خوش ہوں کہ شہر کے دروبام کو تو سجا دیا