اے بھائی جی بریانی کیسے پکتی ہے؟؟؟
ذرا مجھے بازار کےسبزی کے ٹھیک ریٹ تو بتائیں؟؟؟
چور آئیں گے آج شائد آپکا کیا اراداہ ہے؟؟؟
کیا آپ شادی شدہ ہیں؟؟؟
جی تو یہ چند وہ سوالات ہیں جو عموماَ ہیلپ لائین یا ہاٹ لائین والوں سے کئے جاتے ہیں۔ لیکن اسمیں غلط بھی کچھ نہی ہے اب ہیلپ کا مطلب مدد کرنا ہے تو وہ تو کسی کو کہیں بھی کسی بھی وقت چاہیے ہوتی ہے جیسے ایک بی بی جو گھر پر اکیلی تھیں اور وہ یہ نہی جانتی تھی کہ لیپ ٹاپ کیسے آن کیا جاۓ انہوں نے ایسی ہی ایک ہیلپ لائین پر کال کی اور استفسار فرمایا کہ ونڈونہیں کھل رہی(یہ نہیں بتایا کہ کونسی ونڈو)۔ آگے سے جن صاحب نے کال اٹینڈ کی انہوں نے پہلے ہی ایسی
کالز اٹینڈکرکے غصہ اکٹھا کر رکھا تھا سو انہیوں نے کہا کہ آپ اسکو گریس دیں ۔
تھوڑی دیر بعد پھر کال آئی جی اب تو چکنی ہو گئی ہے جواب آیا چکنائی صاف کرے تھوڑا دھکا لگائیں۔ 5 منٹ بعد روتے ہوۓ کال آئی کہ کیسے ھیلپر ہیں آپ
میرا لیپ ٹاپ تو ٹوٹ گیا میں آپکی شکائیت کروں گی۔ لیکن اب لائین کا نام ہی ہاٹ لائین اگر رکھا جاۓ تو پڑھی لکھی عوام سے کیا توقع کی جا سکتی ہے۔
خیر جی ہیلپ لائین سروسز امریکہ 1953 میں شروع کی گئی تھیں کیونکہ ہر وکھرا کام وہیں ہوتا ہے۔اور ویسے بھی ہم انکی ایجاد کردہ چیزوں میں سے فائدوں کی بجاۓ امریکیت تلاشتے ہیں اور وہ سوچتے ہیں کہ فائدہ چاہئے پاکستانی سے ملے لو اسے بعد 1963 میں آسڑلیا نے اس کانسپٹ کو استعمال کیالیکن ہمیں وہاں کرکٹ ٹیم اور کینگرو کے علاوہ کوئی خاص بات پتہ نہیں ہے ۔پاکستان میں پہلی ہیلپ لائین میرے اندازے کے مطابق پی ٹی سی ایل کی ہونی چاہیے جن کے آپریٹر کال ملانے کے علاوہ کالرز کی کالز کو درمیان میں سے ٹوک کر مشورہ بھی دے دیا کرتے تھے اور لڑائی کی صلح بھی کرا دیا کرتے تھے۔ خیر جناب اسکے بعد جو اگلی یاد پڑتی ہے وہ 15 ہے جس کو بنایا تو سہولت کے لیے گیا تھا لیکن خوامخواہ کی دوڑیں بھی بہیت لگوائی ہیں ایک اندازے کے مطابق شروع کے سالوں میں 90٪ کالز پرینک تھیں لیکن اب خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے کیونکہ اب یہ نمبر مسلسل بزی ملتا ہے۔ اسکے بعد 1122 کا دور آیا ۔ ہمارے محلے کے ایک لڑکے نے1122 کال سنٹر جوائیں کیا اور ہم محلے والوں کی تفریح کا خاطر خواہ انتظام کر ڈالا۔ رات کو جب محلے والوں کی لائیٹ جانے پر گلی کی مخصوص جگہ پر محلے داروں کی محفل لگتی تھی تو وہ سارا دن کی کالز سنا سنا کر تھکے ذھنوں کو فریش کرتا اور ایسے ہی آہستہ اہستہ وہ پیا گھر سدھار گیا اور اسکے لیے بھی اہم کردار 1122 کے کال سنٹر نے ہی ادا کیا جب اسے مجبوری کے تحت ایمبولینس کے ہمراہ جانا پڑا اور وہم زدہ آنٹی نے اپنی گیس کی بیماری کو مرض الموت سمجھتے ہوۓ اپنی اکلوتی بیٹی کا ہاتھ تھمایا اور اسی خوشی میں بھلی چنگی ہو کر گھر داماد اکھ لیا۔
اور جی موبائیل کی ہیلپ لائین کی تو بات ہی نہ کرو نا وہ تو ویلے بندوں کا کام ہے
ابھی پچھلے دونوں حکومت نے ایک اور ہیلپ لائین(جسے ہاٹ قرار دیا گیا ہے) بنائی ہے کیونکہ حکومت کوسڑکیں پل کمیٹیاں بنانے سے تھوڑی سی فراغت ہو گئی تھی اور وہ دہشتگردوں کے بارے کچھ معلومات عوام سے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔کیونکہ دہشتگردوں کو پہلے ہی بڑی معلومات ہیں۔ اب اللہ اس عوام کو اگر تھوڑی سی سمجھ دےدے تو اسکو شائد جسٹ فار فن نہ استعمال کریں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن جی دہشت گردی کہیں بھی کسی بھی صورت میں ہو سکتی ہے۔ جیسا کہ ایک خاتون کا اپنے شوہر سے جھگڑا ہو گیا اور انہوں نے مذکورہ ہیلپ لائین پر بڑے ہاٹ لہجے میں کال کر کے فرمایا میرے شوہر گھر میں دہشت پھیلا رہے ہیں آپ براہ مہربانی آکر انکو گرفتار کریں اور اپنے وعدے کے مطابق میرا نام صیغہُ راز میں رکھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لو دسو ہن بھلا بندہ اب پاکستان کی ذہین عوام کو کیا کہے
ذرا مجھے بازار کےسبزی کے ٹھیک ریٹ تو بتائیں؟؟؟
چور آئیں گے آج شائد آپکا کیا اراداہ ہے؟؟؟
کیا آپ شادی شدہ ہیں؟؟؟
جی تو یہ چند وہ سوالات ہیں جو عموماَ ہیلپ لائین یا ہاٹ لائین والوں سے کئے جاتے ہیں۔ لیکن اسمیں غلط بھی کچھ نہی ہے اب ہیلپ کا مطلب مدد کرنا ہے تو وہ تو کسی کو کہیں بھی کسی بھی وقت چاہیے ہوتی ہے جیسے ایک بی بی جو گھر پر اکیلی تھیں اور وہ یہ نہی جانتی تھی کہ لیپ ٹاپ کیسے آن کیا جاۓ انہوں نے ایسی ہی ایک ہیلپ لائین پر کال کی اور استفسار فرمایا کہ ونڈونہیں کھل رہی(یہ نہیں بتایا کہ کونسی ونڈو)۔ آگے سے جن صاحب نے کال اٹینڈ کی انہوں نے پہلے ہی ایسی
کالز اٹینڈکرکے غصہ اکٹھا کر رکھا تھا سو انہیوں نے کہا کہ آپ اسکو گریس دیں ۔
تھوڑی دیر بعد پھر کال آئی جی اب تو چکنی ہو گئی ہے جواب آیا چکنائی صاف کرے تھوڑا دھکا لگائیں۔ 5 منٹ بعد روتے ہوۓ کال آئی کہ کیسے ھیلپر ہیں آپ
میرا لیپ ٹاپ تو ٹوٹ گیا میں آپکی شکائیت کروں گی۔ لیکن اب لائین کا نام ہی ہاٹ لائین اگر رکھا جاۓ تو پڑھی لکھی عوام سے کیا توقع کی جا سکتی ہے۔
خیر جی ہیلپ لائین سروسز امریکہ 1953 میں شروع کی گئی تھیں کیونکہ ہر وکھرا کام وہیں ہوتا ہے۔اور ویسے بھی ہم انکی ایجاد کردہ چیزوں میں سے فائدوں کی بجاۓ امریکیت تلاشتے ہیں اور وہ سوچتے ہیں کہ فائدہ چاہئے پاکستانی سے ملے لو اسے بعد 1963 میں آسڑلیا نے اس کانسپٹ کو استعمال کیالیکن ہمیں وہاں کرکٹ ٹیم اور کینگرو کے علاوہ کوئی خاص بات پتہ نہیں ہے ۔پاکستان میں پہلی ہیلپ لائین میرے اندازے کے مطابق پی ٹی سی ایل کی ہونی چاہیے جن کے آپریٹر کال ملانے کے علاوہ کالرز کی کالز کو درمیان میں سے ٹوک کر مشورہ بھی دے دیا کرتے تھے اور لڑائی کی صلح بھی کرا دیا کرتے تھے۔ خیر جناب اسکے بعد جو اگلی یاد پڑتی ہے وہ 15 ہے جس کو بنایا تو سہولت کے لیے گیا تھا لیکن خوامخواہ کی دوڑیں بھی بہیت لگوائی ہیں ایک اندازے کے مطابق شروع کے سالوں میں 90٪ کالز پرینک تھیں لیکن اب خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے کیونکہ اب یہ نمبر مسلسل بزی ملتا ہے۔ اسکے بعد 1122 کا دور آیا ۔ ہمارے محلے کے ایک لڑکے نے1122 کال سنٹر جوائیں کیا اور ہم محلے والوں کی تفریح کا خاطر خواہ انتظام کر ڈالا۔ رات کو جب محلے والوں کی لائیٹ جانے پر گلی کی مخصوص جگہ پر محلے داروں کی محفل لگتی تھی تو وہ سارا دن کی کالز سنا سنا کر تھکے ذھنوں کو فریش کرتا اور ایسے ہی آہستہ اہستہ وہ پیا گھر سدھار گیا اور اسکے لیے بھی اہم کردار 1122 کے کال سنٹر نے ہی ادا کیا جب اسے مجبوری کے تحت ایمبولینس کے ہمراہ جانا پڑا اور وہم زدہ آنٹی نے اپنی گیس کی بیماری کو مرض الموت سمجھتے ہوۓ اپنی اکلوتی بیٹی کا ہاتھ تھمایا اور اسی خوشی میں بھلی چنگی ہو کر گھر داماد اکھ لیا۔
اور جی موبائیل کی ہیلپ لائین کی تو بات ہی نہ کرو نا وہ تو ویلے بندوں کا کام ہے
ابھی پچھلے دونوں حکومت نے ایک اور ہیلپ لائین(جسے ہاٹ قرار دیا گیا ہے) بنائی ہے کیونکہ حکومت کوسڑکیں پل کمیٹیاں بنانے سے تھوڑی سی فراغت ہو گئی تھی اور وہ دہشتگردوں کے بارے کچھ معلومات عوام سے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔کیونکہ دہشتگردوں کو پہلے ہی بڑی معلومات ہیں۔ اب اللہ اس عوام کو اگر تھوڑی سی سمجھ دےدے تو اسکو شائد جسٹ فار فن نہ استعمال کریں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن جی دہشت گردی کہیں بھی کسی بھی صورت میں ہو سکتی ہے۔ جیسا کہ ایک خاتون کا اپنے شوہر سے جھگڑا ہو گیا اور انہوں نے مذکورہ ہیلپ لائین پر بڑے ہاٹ لہجے میں کال کر کے فرمایا میرے شوہر گھر میں دہشت پھیلا رہے ہیں آپ براہ مہربانی آکر انکو گرفتار کریں اور اپنے وعدے کے مطابق میرا نام صیغہُ راز میں رکھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لو دسو ہن بھلا بندہ اب پاکستان کی ذہین عوام کو کیا کہے

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں