منگل، 27 جنوری، 2015

باپ پر پوت

"فرخ کہاں تھے تم دو دن سے میں نے تمھہیں سمجھایا تھا نا کہ ایسے مت بنا بتاۓ گھر سےغائب رہا کرو سب پریشان ہوتے ہیں حالات تو دیکھو آج کل کس طرح کے ہیں"۔۔۔ دروازہ کھولتے ہی وجیہہ پریشانی سے بولی۔۔
"تو بڑی بہن بن کر رہ میری ماں نہ بن" ۔۔۔ فرخ غصے سے بولا اور دروازہ زور سے دے مارا"میرا کام سمجھانا ہے نہیں تو پھر ابو کہیں گے کہ بڑی ہو کر چھوٹے کو سمجھا نہیں سکتی"۔۔ وجیہہ النگنی سے کپڑے اتارتے بولی
"
اگر میرے اس گھر میں رہنے میں مسئلہ ہے تو میرا سامان گھر سے باہر پھینک دو"۔۔۔۔ فرخ نہ جانے دو دن اور دو راتیں کہاں گزار کے آیا تھا اور آتے ہی چلانا شروع کر دیا تھا۔ وجیہہ جو اس کے بنا بتاۓ غائب ہونے پر پریشان تھی اس سے سوال جواب کر رہی تھی۔ سوال حق کے تھے اور اور حق سے پوچھے جا رہے تھے۔ مگر فرخ جس کی فطرت میں سر کشی در آئی تھی نہ جانے کیوں کسی بھی بات کا ٹھیک سے جواب دینا نہیں چاہ رہا تھا اور اسی اثناءمیں اسنے ایک بیگ میں کپڑے بھرے شروع کر دیے۔ اور وجیہہ جواسی کی حرکتوں کی طرف متوجہ تھی اسے روکنے کہ کوشش کی۔ اسی کوشش کو روکنے کے لیے فرخ نے بنا سوچے سمجھے اپنی بڑی بہن کو تھپڑدے مارا اور بیگ اٹھا کر گھر سے نکل گیا۔ اور
وجیہہ اپنے نرم گال پراس کی سخت انگلیوں کے نشانوں پر ہاتھ رکھے حیرت سے اپنے باپ کو دیکھ کر رہ گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بوڑھی حیرت زدہ آنکھوں کے سامنے کئی برس پرانا منظر پھر سے لہرا رہا تھا بس کرداروں کے نام بدل گئے تھے ۔ جگہ بدل گئی تھی۔وجہ بھی بدل گئی تھی ۔ مگر نظارہ نہی بدلاتھا۔ مٹی زدہ یادوں کی مٹی ہرکی جانے والی حرکت کے ساتھ اترنے لگی تھی اور پرانے بوسیدہ دیمک زدہ اور گلے سٹرے الفاظ واضح ہونے لگے تھے۔ اپنی آنکھوں میں نمی لیے اپنے گرتے وجود کو سہارا دینے کو وہ دروازے کو یوں پکڑے کھڑا تھا جیسے دروازہ ہی اس کا آخری سہارا ہو۔ کافی دیر یوں ہی کھڑے رہنے کے بعد آہستہ آہستہ وہ چلتے ہوۓ کرسی پر گرنے کے انداز میں بیٹھ گیا۔ کانوں میں ایک ہی گونج تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ "باپ پر پوت۔ باپ پر پوت۔ باپ پر پوت"

بات چند نہی کئی برس پرانی تھی جب والد صاحب کی وفات کے بعد وصیت کھولی تھی۔اس کے مطابق والد صاحب جو کہ مذھب کے ہر حکم کو جس حد تک ممکن ہوتا اپنی زندگی میں لاگو کرنے کی کوشش کرتے۔ اور یہی بات ان کے وصیت نامے میں بھی نظر آرہی تھی انہوں نے جائز قانونی حصہ بمطابق اسلام (جو کہ بیٹیوں کا بیٹوں سے آدھا بنتا تھا) اپنے چاروں بچوں دو بیٹوں اور دو بیٹیوں میں بانٹ دیا۔ مگر سب سے چھوٹے رضا کو اس پر اعتراض تھا کیونکہ وہ نہی چاہتا تھا کہ بہنوں خاص کر آپا صبیحہ کو حصہ نہ ملے کیونکہ انہوں نے شادی نہ کی تھی اور اب ساٹھ سے اوپر کی تھیں رضا کے مطابق وہ چونکہ غیر شادی شدہ تھیں ان کی کوئی خا ص ضروریات نہ تھیں اس لئیے یہ تقسیم رضا کے لیے نا قابل قبول تھی اس کے مطابق یہ حصہ اسے ملنا چاہیے تھا کیونکہ وہ بال بچے دار تھا۔ اور یہ اختلاف کرتے وقت وہ یہ بھول گیا کہ ان کی اماں جی اپنی بیماری کے باعث ان سب کو آپا کے حوالے کرکے جنت سدھار گئیں تھیں۔ اور یہ آپا ہی تھیں جنہوں نے گھر سمبھالا اور چھوٹی بہن اور بھائیوں کو پڑھایا لکھایا اور شادیاں بھی کیں۔ اسی سب کو نمٹاتے نمٹاتے ان کی اپنی عمر نکل گئی اور انہوں نے شادی نہ کی لیکن اب یوں لگ رہا تھا کہ جوانہوں نے قربانیاں دیں تھیں وہ رائیگاں گئیں۔
کچھ عرصہ کھینچا تانی چلتی رہی مگر اونٹ کسی کروٹ بیٹھتانہ دیکھ کر رضا نے اپنا پلان زبردستی سے چاپلوسی میں بدل لیا۔ چونکہ آپا نے سب کو ماں کی طرح پالا تھا اسلئے ان کا دل پسیج گیا اور انہوں نے بھی پچھلی باتوں کو بھلا دیا۔ وقت اپنی رفتار سے چلتا رہا اور آپا مزید بوڑھی ہو گئیں ۔ رفتہ رفتہ ان کی آنکھوں کی بینائی بھی جاتی رہی۔ ایک دن رضا نے آکر اپنی مجبوریوں کا رونا ،رونا شروع کر دیا جن میں سے سب سے اہم بچوں کی تعلیم کے بڑھتے اخراجات تھے۔ آپا کو چونکہ اپنے بھتیجے بھتیجیوں سے بہت محبت تھی اور وہ ان کو ہر میدان میں کامیاب اور آگے بڑھتا دیکھنا چاہتی تھیں اسلئے انہوں نے اپنے مکان پرجو کہ وراثت میں انکو ملا تھا اسپرقرضہ لینے کی اجازت دے دی اس شرط پر کہ اقساط رضا ادا کرے گا۔ مگر وہ رضا ہی کیا جو انکا بھلا چاہے۔

اقساط لینے والے آتے اور آپا کو دھمکا کر چلے جاتے آپا اپنی چھڑی ٹکاتی رضا کی جانب چل دیتی اور رضا یہ کہہ کر پھر پر ٹال دیتا کہ دکان میں مندا ہے پہلے ہی گھر کے خرچے پورے نہی ہوتے اوپر سے یہ قرضہ میں کیسے اتاروں ۔ آپا بے چاری اس کو ڈھیر ساری تسلی اور دعائیں دے کرواپس چلی آتی۔  اسی اثناء میں چھوٹی بہن جب ملنے آئی تو اس نے بھی رضا کو بلوا کر سمجھایا کہ بڑی بہن کے ساتھ ایسا مت کرو ماں کی جگہ ہے مگر بجاۓ بات سمجھنے کہ رضا نے جھگڑا شروع کر دیا ہوتے ہوتے بات یہاں تک پہنچی کہ اس نے ماں جیسی بڑی بہن کو تھپڑ دے مارا اور وہ ضعف کی وجہ سے اس اچانک آنے والی افتاد سے سنبھل نہ سکیں اور زمیں پر جا گری اور مٹی سرخ ہونے لگی ۔ رضا بنا پرواہ کیۓ کف اڑاتا اپنے گھر کو چل دیا۔

چند روز بعد چھوٹی بہن نے گروی مکان کا سودا کرکے قرضہ ادا کیااور بہن کو اپنے پاس لے گئی۔ لیکن جانے سے پہلے آپا نے رضا کے دروازے پر کھڑے ہو کر اس کو اور اس کے بچوں کو ڈھیر ساری دعائیں دی اور اسے یہ بھی کہا کہ میں  نے چونکہ ماں کی غیر موجودگی میں پالا ہےاسلیۓ تمہیں بددعا نہیں دے سکتی مگر اتنا ضرور کہوں گی کہ "رضا یاد رکھنا باپ پر پوت ہوتا ہے۔ تیرے دو بیٹے ہیں کبھی تو تجھے احساس دلائیں گے کہ تم نے اپنی بہن کے ساتھ کیا کیا تھا"۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اورآج رضا کی آنکھوں کے سامنے اس کے چھوٹے بیٹے فرخ نے اپنی بڑی بہن وجیہہ کو تھپڑ دے مارا وجیہہ حیران نظروں سے باپ کو دیکھنے لگی اور فرخ غصے میں کپڑوں سے بھرا بیگ اٹھا کر گھر سے باہر نکل گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔باقی بس رضا کے کانوں میں تکرار رہ گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ باپ پر پوت ہوتا ہے۔ باپ پر پوت ہوتا ہے۔ باپ پر پوت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1 تبصرہ:

  1. سیانے شاید اسی کو کہتے ہیں کہ
    نسل پہ نسل گھوڑے پہ گھوڑا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بہت نہیں تو تھوڑا تھوڑا

    جواب دیںحذف کریں