"فرخ کہاں تھے تم دو دن سے میں نے تمھہیں سمجھایا تھا نا کہ ایسے مت بنا بتاۓ گھر سےغائب رہا کرو سب پریشان ہوتے ہیں حالات تو دیکھو آج کل کس طرح کے ہیں"۔۔۔ دروازہ کھولتے ہی وجیہہ پریشانی سے بولی۔۔
"تو بڑی بہن بن کر رہ میری ماں نہ بن" ۔۔۔ فرخ غصے سے بولا اور دروازہ زور سے دے مارا"میرا کام سمجھانا ہے نہیں تو پھر ابو کہیں گے کہ بڑی ہو کر چھوٹے کو سمجھا نہیں سکتی"۔۔ وجیہہ النگنی سے کپڑے اتارتے بولی
"


