منگل، 6 جنوری، 2015

وجہء تسمیہ بلاگ من

کیا کہا بلاگ بناؤں ۔۔۔۔۔
پھر کیا نام رکھوں؟؟؟؟
نہ نہ یہ تو فضول ہے۔۔۔۔۔
ارے یہ تو پہلے ہی استعمال شدہ ہے۔۔۔۔۔
یہ تو کسی اور کا ہے۔۔۔۔
کچھ مختلف ہو۔۔۔۔۔۔

تو جناب یہ سب ہوتا رہا کئی دن اور سمجھ سے باہر تھا کہ کیا،کیا جاۓ۔ کیونکہ میرا یقین ہے کہ نام کسی بھی شخص یا چیز کا ہو  اسکی پہچان ہوتا ہےاور بڑی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔
قصہ کچھ یوں ہے کہ کچھ عرصہ شاعری(نثری نظم) کے بلاگ کو چلا نےکے بعد مجھے بعذریعہ کچھ بلاگر"حضرات" پتہ چلا کہ میرا شمار بلاگرز میں نہی ہوتا ہے۔  اور اس سے پہلے کہ میں مایوسی کے اتھاہ سمندر میں ڈوب ہی جاتی خیال آیا کہ دنیا کو ایک عظیم لکھاری کی تحاریر سے محروم نہی کرنا چاہیے یہ زیادتی ہوگی۔ اور جناب عوام کو مستفید کرنے کو قرعہ فال پھر سے اردو بلاگ کے نام نکلا۔ (اف اب جن کی داڑھی میں تنکا ہےوہ پتہ نہی کیا کر رہے ہونگے)۔

کسی بھی چیز کا نام رکھنا بہت ہی مشکل کام ہے ہر طرف سے اس ضمن میں مشورہ کیا گیا، ادھر ادھر سے، گھر والوں سے باہر والوں سے، دوستوں سے اور خوامخواہ کے خیر خواہوں سے، لیکن ہو وہی کہ آخر مجھے ہی تخیل کے گھوڑے سر پٹ دوڑانے پڑے۔

ہر طرف سے یہی پوچھا جاتا تھا کہ محترمہ موضوع تو بتائیں ۔ اور میرا حال ان والدین کا سا ہو جاتا جن سے پوچھا جاۓ کہ جی پہلے یہ بتائیں کہ بچہ کیا بنے گا نام پھر رکھنا۔  اور میرا اصل مسئلہ ہی یہ تھا کہ میں اسے کسی بھی موضوع کے لیے مخصوص نہی کرنا چاہ رہی تھی۔ اسی ورائٹی کا سن کر ہر کوئی کچھ مہلت مانگ لیتا ۔ جن میں سے کئی لوگ ابھی تک مہلت پر ہیں( یہ اپنے اردو انسٹالر والے بلال بھائی بھی انہی مہلت شدہ لوگوں میں شامل ہیں اور ابھی تک مہلت پر ہیں)۔

 اب میری سوچ کے مطابق یہ جو چیز بن رہی تھی کچھ حلیم ٹائپ تھی جس میں ہر طرح کے اناج کا دانہ ڈالا جاتا ہے۔ اور پھر دھیان دال دلیہ کی طرف چلا گیا۔ حضرت گوگل نے بتایا کہ جناب ظفر اقبال صاحب کا کوئی کالم اس نام سے جاری رہا ہے۔ سو اس نام کے خیال کودلیہ کے برتن کے ساتھ ہی دھو دیا۔ پھر سوچا کہ اسکا نام نرم گرم رکھ لوں لیکن بمطابق خواتین یہ نام کچھ نامناسب اورقابل سنسر لگا سو کنسل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دماغ نے اختراع نکالی سب ہے تو اسکا نام مکس چاٹ(mix chat) رکھ لیا جاۓ یہ سوچ کر مشورہ طلب نظروں سے جناب مصطفی ملک کی جانب دیکھا تو وہ بولے بی بی یہ چاٹ لکھا ہے؟؟؟یا چیٹ؟؟؟( وہی کامن مسئلہ رومن اردو کو کچھ بھی پڑھا جا سکتا ہے)۔

بحرحال ایک روز ریڈیو پاکستان پرجناب شجاعت ہاشمی صاحب جو ہم آواز کی دنیا کے لوگوں کے لیے رہنما کی حثیت رکھتے ہیں نے میرے بارے میں فرمایا کہ عارفہ بی بی آپکا طرز تکلم اچھا ہے۔ میں نے اسوقت انکا پر جوش شکریہ ادا کیا کیونکہ انکی تعریف نے میرا بلاگ کے نام کا مسئلہ حل کر دیا۔۔۔۔۔۔۔اور نام ایجاد ہوا "تکلم عارفانہ" ۔ اس نام کو مشورہ کے عمل سے گزرا تو سب نے واہ واہ کہ( کیوں نہ کرتے کئی روز سے تجویز مانگ مانگ کر سر جو کھا رکھا تھا)۔ اور حسب معمول مصطفی ملک صاحب نے سب سے زیادہ واہ واہ کی ( انکی روز کے ایک ہی سوال سے جان جو چھوٹ گئی)۔

بحرحال جی بنا کسی خاص موضوع کے اس بلاگ میں سب کچھ لکھنے کی کوشش ہو گی جو میں سوچتی ہوں۔ کیونکہ اسکا اصل مقصد اپنی سوچ کو اجاگر کرنا ہے اور چونکہ میں عام عوام میں سے ہوں تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خود ہی اندازہ لگا لیں۔  

2 تبصرے:

  1. لو جی ، میری طرف سے ایک بار پھر واہ واہ ۔۔۔۔۔ قبول فرمائیں
    اردو بلاگنگ میں دوبارہ آمد پر خوش آمدید
    امید ھے اب " کلام عارفانہ " بلا بریک جاری رھے گا
    اللہ کرے زور تکلم اور زیادہ

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. شکریہ ملک صاحب۔۔۔۔ویسے بیبیوں کا زیادہ تکلم ۔۔۔۔ شادی سے پہلے اور بعد والی صورت حال سے منسلک ہے

      حذف کریں